اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے
عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے
Related posts
-
غلام ہمدانی مصحفی
ہم مصحفی بہ کفر تو مشہور ہو چکے آنا قبول اب نہیں اسلام میں ہمیں -
سعود عثمانی
دہکتی خاک پہ بادل بچھا دیا کس نے پڑی ہے تپتی ہوئی ریت پر ردائےحسین -
پروین شاکر
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں...
